ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / گوا کے مڈگاوں میں سوشل میڈیا پر ڈالے گئے پوسٹ کو لے کر مسلمانوں کا احتجاج؛ خاطیوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ

گوا کے مڈگاوں میں سوشل میڈیا پر ڈالے گئے پوسٹ کو لے کر مسلمانوں کا احتجاج؛ خاطیوں کو فوری گرفتار کرنے کا مطالبہ

Sun, 01 Oct 2023 11:56:31    S.O. News Service

مڈگاوں یکم اکتوبر (ایس او نیوز/ایجنسی) گوا میں مسلم طبقہ کے جذبات کو مجروح کرنے والے سوشل میڈیا پوسٹ کو لے کر مسلمانوں میں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے اور اس کے نتیجے میں  ریاست کے کچھ حصوں میں کشیدگی  پائی جارہی ہے۔  مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ  اس طرح نفرت پھیلاکر پرامن فضا کو بگاڑنے کی کوشش کرنے والوں کے خلاف فوری کاروائی کی جائے  اور اُنہیں گرفتار کیا جائے۔

ذرائع سے ملی  اطلاع کے  مطابق نامعلوم شرپسندوں نے  سوشل میڈیا پر قابل اعتراض پیغام پوسٹ کیا ، جس سے مسلم طبقہ  میں ناراضگی پائی جارہی ہے۔ مسلم تنظیموں نے اس سلسلے میں پنجی، مڈگاؤں، پونڈا، ماپوسا میں  واقع پولیس تھانوں میں  پہنچ کر شکایت بھی درج کرائی  ہے، لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی جس کے بعد سنیچر کو  سینکڑوں لوگوں نے مڈگاوں پولس تھانہ کے باہر پہنچ کر احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مسلم تنظیموں نے سائبر کرائم ڈپارٹمنٹ میں ایک شکایت دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جن لوگوں نے انسٹاگرام پر فرضی اکاؤنٹ بناتے ہوئے  پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف قابل اعتراض تبصرے کیے ہیں،  جن کا فوری پتہ لگایاجائے اور انھیں گرفتار کیا جائے۔

ایک پولیس اسٹیشن کے باہر اکٹھا ہوئے لوگوں میں سے ایک احتجاجی نے میڈیا والوں کو بتایا  کہ ’’ہمارے مذہب پر جو بھی تبصرے کیے جاتے ہیں، ہمیں اس سے تکلیف پہنچتی ہے۔ گوا میں عیسائی، ہندو اور مسلم امن کے ساتھ مل جل کر رہ رہے ہیں۔ ہم وزیر اعلیٰ پرمود ساونت اور پولیس محکمہ سے قصورواروں کے خلاف کارروائی کرنے کی گزارش کرتے ہیں۔‘‘

ایک اور احتجاجی نے بتایا کہ ’’ہم نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ دیکھا جو ہمارے مذہب کے خلاف تھا۔ اس لیے ہم نے پولیس افسران سے ملاقات کی اور ان لوگوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا جنھوں نے ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ گوا میں ایسی چیزیں کبھی نہیں ہوئیں۔ ہم نے پونڈا، پنجی، ماپوسا اور مڈگاؤں میں شکایتیں درج کرائی ہیں۔‘‘ عبدالرؤف نامی ایک شخص نے کہا کہ انسٹاگرام کی ایک آئی ڈی میں ان کی تصویر کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’مجھے واقعہ کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں تھی۔ لیکن میرے گھر والوں نے مجھے بتایا کہ کوئی میری تصویر کا استعمال کر کے سوشل میڈیا پر تبصرے پوسٹ کر رہا ہے۔ مجھے نہیں پتہ کہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے کے لیے میری تصویر کا استعمال کس نے کیا ہے۔ میں وزیر اعلیٰ پرمود ساونت سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ پولیس کو کارروائی کا حکم دیں۔‘‘

اس درمیان گوا پولیس نے معاملے کی جانچ کے لیے ایک سائبر ٹیم تشکیل دی ہے۔ جنوبی گوا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کیا ہے کہ ’’انسٹاگرام پر مڈگاؤں اور پونڈا  پولس تھانہ  میں مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے قابل اعتراض پوسٹ کے سلسلے میں نامعلوم شخص کے خلاف معاملہ درج  کیا گیا ہے اور معاملے کی گہرائی سے جانچ کی جارہی  ہے ‘‘


Share: